18 فروری 2012 - 20:30

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے ہاتھوں عوام کے جاری بے دردانہ قتل عام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس بہیمانہ قتل عام کا جائزہ لینے کیلئے ایک آزاد کمیٹی بنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: بانکی مون نے کہا ہے کہ بحرین میں عوام پر زور و زبردستی اور حد سے زیادہ تشدّد عالمی برادری کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔انھوں نے بحرین کی آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدّد بند اور عوامی مطالبات کے اظہار کیلئے حالات سازگار بنائے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ بحرینی عوام کو اپنے مظاہروں کے دوران آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے شدید تشدّد کا سامنا ہے۔ بحرینی عوام کی استقامت شروع ہوئے ایک سال کا عرصہ پورا ہورہا ہے اور اس دوران انھیں ہمیشہ دباؤ دھونس دھمکیوں اور گولیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ ان کے مطالبات ہمیشہ پر امن رہے ہیں کہ جن کا بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی جانب سے گرفتاری۔

ایذا رسانی اور ان کے مکانات کی مسماری کے ساتھہ جواب دیا جاتا رہا ہے۔گذشتہ ایک سال کے دوران بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے ساتھہ سعودی فوجی بھی بحرینی عوام کے بہیمانہ قتل عام میں ملوّث رہے ہیں اور امریکہ نے بھی منامہ حکومت کے ساتھہ فوجی معاہدوں کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت کے ذریعے بحرین کے نہتھے عوام کے خلاف جاری جرائم میں بالواسطہ طور پر اپنا اہم کردار جاری رکھا۔ بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کی جانب سے زہریلی گیس کے استعمال کے نتیجے میں گذشتہ چند دنوں کے دوران متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھہ دھو چکے ہیں اور بحرین کی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے تشدّد کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔

یہ ایسے میں ہے کہ انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیموں نے ان واقعات پر صرف زبانی طور پر بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی مذمّت کی ہے اور اس کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے۔ دریں اثنا بحرین کے 14/ فروری کے انقلابیوں کے اتحاد کے ترجمان عبد الرّؤف الشّائب نے اعلان کیا ہے کہ بحرینی عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کوئی امّید نہیں ہے۔ انھوں نے العالم عالمی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کے ساتھہ کہا کہ بحرینی عوام کے خلاف جاری وحشیانہ جرا‏‏ئم پر عالمی اداروں کے مضبوط مواقف کے فقدان کے باوجود عوام کا انقلابی جوش و جذبہ کم نہیں ہوا ہے۔

بحرین کی تحریک آزادی کا بھی کہنا ہے کہ بحرینی عوام کا انقلاب اپنی پوری توانائی کے ساتھہ جاری ہے۔ اس تحریک کے ترجمان نے تاکید کے ساتھہ کہا کہ زبر دستی گرفتاریوں اور جیلوں میں ایذا رسانی اور اسی طرح انقلابیوں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے نیز بحرین میں غیر جانبدار نامہ نگاروں اور صحافیوں کے داخلے پر پابندی کے باوجود ملک میں اصلاحات و تبدیلی کیلئے عوامی عزم و ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور بحرین کے عوام نے اپنے حالیہ مظاہروں میں بھی جو اس ملک کے انقلاب کی پہلی سالگرہ کی مناسبت سے کئے گئے صراحت کے ساتھہ اعلان کیا ہے کہ انہیں قتل ہوجانے کا کوئی خوف نہیں ہے اور بحرین کی آل خلیفہ حکومت کا تختہ الٹنے تک ان کی استقامت اور احتجاجی مظاہرے بدستور جاری رہیں گے. ........

/169